PIVRA logo Pakistan Institute for Vision Research and Action
← Back to Opinion

ریل، منظر اور معمار

عرصہ دراز کے بعد 5 اگست کو صبح 7:10 بجے ریل گاڑی میں سفر کا موقع ملا۔ گاڈی روانہ ہوئی تو قدرت کے عجائبات نے اپنی طرف کھینچ لیا، برسات کا موسم اور ہر طرف ہریالی تھی، کھڑکی سے باہر حسین و جمیل درخت، سرسبز کھیت، چشمے، ندیاں، پہاڑ اور دریائے اباسین کا حسن دیکھ کر دل قدرت کی تخلیقات پر متحیر تھا۔ پنجاب میں داخل ہوتے ہی تازہ بارش نے ہوا میں عجیب طمانیت اور خوشبو بکھیر دی تھی۔

اٹک ریلوے اسٹیشن پر گاڈی رکی تو ایک بزرگ ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔ سلام و دعا کے بعد بات چیت شروع ہوئی۔ آبائی قصبوں کا ذکر چھیڑا اور تاریخی شخصیات کا پوچھا تو جواب میں اکوڑہ خٹک و ایسوڑی کے عظیم شخصیات قلم و تلوار کے ماہر خوشحال خان خٹک، جامعہ حقانیہ کے مہتمم حضرت مولانا عبد الحق نور اللہ مرقدہ اور عظیم سیاستدان، قلم و قرطاس کے عظیم لکھاری حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ، دنیاء فصاحت و بلاغت کے عظیم دانشور اور قرآن و حدیث کے مفسر ڈاکٹر سید شیر علی شاہ المدنیؒ جیسی علمی شخصیات کا تذکرہ کیا۔

اسی دوران تعارف سے معلوم ہوا کہ شیر محمد صاحب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) سے سبکدوش ہوئے ہیں، آج کسی کام سے راولپنڈی جا رہے تھے۔ عمر پینسٹھ اور ستر کے درمیان تھی، تعلیم بی اے تھی، مگر باتوں سے حکمت ٹپکتی تھی۔ وہ سفر چند گھنٹوں کا تھا، لیکن سبق زندگی بھر کا دے گئے۔

زندگی میں بڑے بڑے ڈگری ہولڈر دیکھے ہوں گے، لیکن اصل استاد وہ ہے جو کسی کی تقدیر بدل دے۔ شیر محمد صاحب ایسے ہی زندگی بدل دینے والوں میں سے تھے جو بغیر مروجہ اداروں کے لوگوں کی زندگی بدل دیتے تھے۔

تعلق اگرچہ اٹک کے دیہی قصبے سے تھا، فرائض اسلام آباد میں سر انجام دیے اور سروس کا بیشتر حصہ پشاور میں گزرا۔ اس نے سکھایا کہ رہنمائی کیسے کی جاتی ہے، ایک شخص کی درست رہنمائی، ایک پوری نسل کا مستقبل سنوار دیتی ہے۔

وہ اپنے دو واقعات بڑے فخر اور دعائیہ لہجے میں سنا رہے تھے کہ

سن 1989 کے لگ بھگ کی بات ہے۔ ایک مالی صاحب بیٹے کا میٹرک کا رزلٹ لے کر آئے۔ نمبر اچھے تھے۔ التجاء تھی “صاحب! میرے بیٹے کو کوئی نوکری دلوا دیں”۔ شیر محمد صاحب نے فائل بند کر دی اور سوچ کھول دی۔ فرمایا “چاچا! بیٹے کو نوکر نہیں، ڈاکٹر بناؤ”۔ خود دوڑ دھوپ کر کے اس کا آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ کروا دیا۔

آج وہی لڑکا ڈاکٹر ہے، طلحہ نام ہے اور انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں جبکہ پانچ بچوں کا باپ ہے۔ اور اس کے بچے بھی یا ڈاکٹر ہیں یا بننے والے ہیں۔ ایک جملے نے ایک خاندان کو نسل در نسل عزت دے دی۔

دوسرا واقعہ بیان کرتے ہوئے گویا تھے کہ پشاور کے نواحی گاؤں کا ایک آفریدی قبیلے کا مالی آیا۔ بھانجے کے متعلق کچھ باتیں کیں، میں نے کہا اس کو ایک اچھے سے سکول میں داخل کروائیں، لیکن داخلے کا مسئلہ تھا۔ شیر محمد صاحب سے ایک اچھے سکول میں داخلے کے لیے درخواست کی کہ اس کو داخلہ دلوائیں، سکول والے داخلہ نہیں دے رہے یا نہیں دیں گے، کسی طریقے اور منت سماجت کی بنیاد پر تیسری اور چوتھی کلاس میں بہن بھائیوں کو اچھے سکول میں داخلہ دلوایا، بچے کا نام تھا آصف آفریدی،

وقت گزرا۔ موجودہ حکومت سے پہلے نگران حکومت میں وہی ننھا آصف، جس کی رہنمائی کی تھی اور سکول داخلہ دلوایا تھا، اس کے پاس پانچ وزارتوں کے قلمدان آ گئے تھے۔

یہ اتفاق نہیں تھا۔ یہ وقت پر دی گئی درست رہنمائی کا ثمر تھا۔

شیر محمد صاحب کا فلسفہ ایک جملے میں تھا “بیٹا! مچھلی مت دو، جال پکڑنا سکھا دو”۔

آج ہمارے معاشرے کو بڑے بڑے سیمیناروں اور ڈگریوں سے زیادہ “شیر محمدوں” کی ضرورت ہے۔

ایسے لوگ جو مالی کے بیٹے میں ڈاکٹر دیکھ لیں۔ جو نرسری کے بچے میں وزیر دیکھ لیں۔ جو اپنا فائدہ نہ دیکھیں، دوسروں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں۔

اس طرح سفر کے اختتامی مراحل میں اپنے ٹیلی کمیونیکیشن کی ذمہ داریوں اور تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایم این اے اور سینیٹر سے شناسائی تھی، اپنے گاؤں میں اس کی وساطت سے چار تعلیمی ادارے قائم کیے جس سے اہل علاقہ مستفید ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے بچوں کی کامیابی کا تذکرہ کیا، کہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔

ماحولیات کی طرح انسانوں کی آبیاری بھی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک درخت لگانے سے ایک گھر کو سایہ ملتا ہے، اور ایک انسان کی رہنمائی سے نسلیں سنورتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کی مٹی ایسے ہی کردار مانگتی ہے۔

ریل گاڑی راولپنڈی پہنچ کر رک گئی۔ شیر محمد صاحب اتر گئے۔ لیکن ان کے دو جملے اور دو واقعات میرے ذہن میں گونجتے رہے۔

سلام ہے شیر محمد صاحب جیسے خاموش معماروں کو، جن کی اصل ڈگری کاغذ پر نہیں، ان کے واسطوں کے شاگردوں کے عہدوں اور کردار پر لکھی ہوتی ہے۔ جو قوموں کی تعمیر و ترقی میں خاموش کردار ادا کرتے ہیں۔

Have a piece ready to submit?

Reach out and the editorial team will take it from there.

publications@pivra.org