PIVRA logo Pakistan Institute for Vision Research and Action
← Back to Opinion

عطاء اللہ: شیدو کے گلی کوچوں سے امریکہ کے بین الاقوامی میدان تک

محنت، استاد کی شفقت اور والدین کی دعائیں جب جمع ہو جائیں تو ایک عام بچہ بھی ملک کا نام روشن کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال عطاء اللہ کی ہے، جس نے بچپن کے کھیل اور دوڑنے کے شوق کو اپنی پہچان بنا لیا اور آج وہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے بین الاقوامی چیمپیئن شپ میں امریکہ روانہ ہو چکا ہے۔

عطاء اللہ کا بچپن سے ہی کھیلوں اور دوڑنے کا بے پناہ شوق تھا۔ وہ اکثر گلیوں میں دوڑتا اور کھیلتا رہتا۔ اسی شوق نے اسے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول شیدو تک پہنچایا۔ یہیں پر اس کے اساتذہ نے اس کی صلاحیت کو پہچانا اور اسے آگے بڑھنے کا موقع دیا۔

عطاء اللہ نے سکول کی نمائندگی کرتے ہوئے ضلعی، زون اور صوبائی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ ان تمام کامیابیوں کے پیچھے اس کے اساتذہ کی محنت شامل تھی۔ انہوں نے نہ صرف اسے کھیل کے گر سکھائے بلکہ حوصلہ بھی دیا کہ وہ بڑے میدانوں میں بھی اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔

عطاء اللہ کے سفر میں ایک بڑا امتحان ایبٹ آباد میں ہونے والے صوبائی سطح کے مقابلے کے دوران آیا۔ اسی دوران اس کے استاد محترم جناب آصف حیات صاحب کا موبائل فون گم ہو گیا۔ اس مشکل گھڑی میں سکول کے پرنسپل جناب مشرف خان صاحب آگے بڑھے۔ انہوں نے نہ صرف مالی مدد کی بلکہ عطاء اللہ کی مکمل سرپرستی کا بیڑا اٹھایا۔

پرنسپل صاحب کے تعاون اور اساتذہ کی مسلسل رہنمائی نے ہی عطاء اللہ کو ایک عام طالب علم سے بین الاقوامی کھلاڑی بننے کا سفر طے کروایا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب استاد اور ادارہ کسی طالب علم کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو کوئی بھی منزل دور نہیں رہتی۔

اساتذہ کی دعاؤں اور محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ سات اگست 2026 کو عطاء اللہ انٹرنیشنل چیمپیئن شپ مقابلوں کے لیے امریکہ روانہ ہوا۔ یہ لمحہ نہ صرف عطاء اللہ بلکہ پورے شیدو، ضلع اور ملک کے لیے فخر کا مقام ہے۔ آج وہ پاکستان کا پرچم بلند کرنے کے لیے میدان میں اترے گا۔

آج پورے علاقے کے اساتذہ، والدین اور اہلِ علاقہ دست بہ دعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ عطاء اللہ کو کامیابی سے نوازے اور وہ ملک کا نام روشن کر کے واپس آئے۔

شوق سچا ہو، استاد مخلص ہو اور قوم ساتھ دے تو شیدو جیسے چھوٹے گاؤں کا بچہ بھی دنیا کے سب سے بڑے میدانوں میں پاکستان کا نام روشن کر سکتا ہے۔

Have a piece ready to submit?

Reach out and the editorial team will take it from there.

publications@pivra.org