ڈیجیٹل دور اور کتاب کی دنیا
کرونا وائرس نے انسانی زندگی کے تمام مراحل کو یکسر بدل دیا۔ عارضی طور پر پابندیوں نے انسانوں کو گھر پر محدود کر دیا۔ عبادات، تجارت، کاروبار اور رسم و رواج میں فاصلے پیدا ہونے لگیں۔ تعلیمی نظام آن لائن اور بذریعہ انٹرنیٹ ہونے لگا۔ رشتوں اور تعلق کے ساتھ ساتھ رسم و رواج بدلنے لگے۔ ان سب میں اہم یہ کہ تعلیمی نظام مروجہ عمارات اور چار دیواری سے ہٹ کر انٹرنیٹ پر آنے لگا۔
ابتدائی طور پر اساتذہ اور شاگردوں کا رابطہ، تعلیمی سرگرمی اور درس و تدریس کے ریکارڈ شدہ لیکچر سکول اور کلاس گروپ میں بھیجنے کی ترتیب بنی۔ ضرورت پر زوم، واٹس ایپ، ٹیم یا گوگل میٹ جیسی ایپلیکیشن کا استعمال رائج ہونے لگا۔ یونیورسٹی سطح پر اکثر کلاسز آن لائن ہونے لگیں۔ پروجیکٹ کی مختلف سرگرمیاں شروع ہوئیں تو اس دوران مصنوعی ذہانت نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی، یوں تخلیقی ذہانت کی جگہ اسائنمنٹ اور پروجیکٹ کی تیاری میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے معاونت میں وہ عظیم کردار ادا کیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تخلیقی ذہانت کی جگہ مصنوعی ذہانت نے لے لی اور یوں علمی، حقیقی اور تخلیقی تحقیق محدود ہو کر رہ گئی۔
کتاب سے محبت علمی ترقی کا ذریعہ ہے۔ کتاب کی خریداری مصنف کی علمی استعداد اور قابلیت کی داد ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ کی رنگا رنگینی اور دلکش مواد نے کتاب کی جگہ لے لی۔ طلباء کی ذہنی آبیاری میں حقیقت کی بجائے مصنوعی اوزار کردار ادا کرنے لگے، جبکہ جدید دور میں کتاب سے محبت اور لگاؤ کا تعلق بے وقعت ہو کر رہ گیا ہے۔ کتابیں شائع ہوتیں ہیں لیکن خریدنے والا کوئی نہیں، لائبریریاں کتابوں سے بھری پڑی ہیں، لیکن قاری نظر آنے والے نہیں۔ یوں مصنف و مؤلف کی سعی سعی ناکام معلوم ہونے لگتی ہے، جن کے لیے کتاب لکھی گئی وہ انٹرنیٹ کی رنگینیوں، غربت اور ڈگری کی اہمیت ماند پڑنے، تعلیمی زبوں حالی کے سبب اپنی الجھنوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ علم سے محبت اور تحقیق کے میدان میں دلچسپی رکھنے والے کتابوں کا رخ کرتے ہیں۔ جدید آرٹیفیشل انیٹلیجنس اور سافٹ ویئر کو بسا اوقات بطور ذرائع استعمال کرتے ہیں لیکن یہ تعداد بہت کم ہے۔ دور جدید نئے تحقیقات کا دور ہے۔ تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کی بجائے تحقیقی اور خداداد صلاحیت کو بروکار لاتے ہوئے جدید مصنوعی ذہانت کو صرف ذرائع کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال علمی میدان میں کمزوری اور مستقبل کی منصوبہ بندی و ترقی میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ اس کو سہولت اور ذرائع کے طور پر استعمال کرنے میں حرج نہیں، لیکن حقیقی ذہانت کی جگہ مصنوعی ذہانت کو ترجیح دینا، مستقل طور پر استعمال کرنا، علمی میدان میں سرقے کے طور پر استعمال کرنا، اساتذہ کے منع کرنے کے باوجود اس سے استفادہ کرنا اپنے آپ کو لا علم رکھنے کے برابر ہے۔ ڈیجیٹل کتاب سے استفادے کا معیار بہت کمزور ہے، جس سے استفادہ کسی حد تک حاصل کرنا آسان ہے لیکن مستقل حل نہیں۔
راقم الحروف کے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ غربت، مسائل اور پریشانیوں کی وجہ سے کتاب اور لائبریری تک رسائی ممکن نہیں ہوتی، جس کے مقابلے میں ڈیجیٹل کتاب سے استفادہ کرنا آسان بھی ہے اور ارزاں بھی۔ اس میں شک نہیں کہ ڈیجیٹل کتاب سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے، ذوق مطالعہ ختم ہوا، کتب بینی کا رواج ختم ہوا، ترجمہ، تحقیق، تصنیف و تالیف کی لگن و محبت ماند پڑ گئے۔ قاری ہے نہیں تو مصنف و مؤلف کس کے لیے نصنیف کرے؟
ہائی ٹیک یونیورسٹی ٹیکسلا سے ایم ایس اسلامک اسٹڈیز کی تحقیق کے دوران سینکڑوں کتابوں سے استفادہ کیا۔ قرآن پاک اور درس نظامی کے علاوہ دیگر بہت کم کتابیں ذاتی لائبریری میں موجود تھیں۔ کورونا وائرس اور قرنطینہ کی صورتحال کی وجہ سے یونیورسٹیوں اور لائبریریوں کو تالے لگے تھے۔ چار و نا چار کیوبوٹ موبائل فون کی بدولت، جن میں تقریبآ بارہ سو کتابیں موجود تھیں، جن میں بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں سے شائع شدہ کتب، جن تک رسائی ممکن نہ تھی اور ساتھ ہی بہت مہنگی تھیں، سے ایسا استفادہ کیا کہ ایم ایس ڈگری کی تکمیل میں بھرپور معاون ثابت ہوئیں۔
یہ حقیقت ہے کہ تحقیقی میدان میں بہت وسعت آئی ہے۔ جدید تحقیقات اور ٹیکنالوجی نے زندگی آسان کر دی ہے۔ اس طرح ان تحقیقات پر اکتفا کرنا تحقیق کے میدان کو محدود کرنا ہے۔ نئے تجربات سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر گرفت لانے کی ضرورت ہے، جو مسائل غیر ارادی طور پر پروان چڑھے ہیں، ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے انسانوں کی بہتر سے بہترین زندگی، سہولیات، امن و سلامتی اور استحکام کے لیے کام لینے کی ضرورت ہے، لیکن کتاب کی دنیا میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، کتابی دنیا میں رہتے ہوئے امن و سلامتی اور تحفظ کی تلاش کے ساتھ ساتھ فلاح و بہبود کو زیر مطالعہ رکھنا لازمی ہوگا۔